آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا سخت مؤقف، امریکا پر عدم اعتماد اور عالمی خدشات میں اضافہ

 آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا سخت مؤقف، امریکا پر عدم اعتماد اور عالمی خدشات میں اضافہ








مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ بیانات میں ایران کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسے امریکا پر کوئی اعتماد نہیں اور وہ کسی بھی معاہدے یا پیشکش کے بدلے ٹھوس ضمانتیں چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ایک سخت مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایران کو اس اہم بحری راستے سے محروم کیا گیا تو پھر کوئی اور بھی یہاں سے گزر نہیں سکے گا۔




آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ روزانہ لاکھوں بیرل تیل اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہ راست عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔



ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا نے ماضی میں کیے گئے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی، خاص طور پر جوہری معاہدہ (JCPOA) جس سے امریکا یکطرفہ طور پر علیحدہ ہو گیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کسی بھی نئے معاہدے پر اعتماد کرنا ممکن نہیں جب تک کہ اس کے لیے مضبوط اور قابلِ عمل ضمانتیں فراہم نہ کی جائیں۔ ایرانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا کی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے۔



ایران کے حالیہ بیانات میں یہ بات بھی نمایاں ہے کہ اگر اس پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں یا اسے عالمی تجارتی راستوں سے روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ بھی سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی دھمکی کو عالمی سطح پر نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کیونکہ اس راستے کی بندش عالمی توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔









دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ایران کے ان بیانات کو اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی بحری راستوں کی حفاظت اور آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس طرح کی دھمکیاں دے۔ تاہم، امریکا کی جانب سے بھی یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔



عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے اور کسی بھی غلط قدم سے خطے میں بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک اس صورتحال سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت کا بڑا دارومدار تیل کی برآمدات پر ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ہے تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں جس کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے گا۔



پاکستان سمیت کئی ممالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا واحد حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ طاقت کا استعمال نہ صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ بنائے گا بلکہ اس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔



ایران کے اندرونی حالات بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ معاشی پابندیوں کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کرے۔ اسی تناظر میں ایران کا سخت مؤقف سامنے آ رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کی جا سکے۔



ادھر خلیجی خطے میں موجود دیگر ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ممالک کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر ان کی سلامتی اور معیشت پر پڑ سکتا ہے۔



بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی ایک اسٹریٹیجک دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیں۔ تاہم، اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اگر صورتحال کنٹرول سے باہر ہو گئی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔



اس تمام صورتحال میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور فریقین کے درمیان مذاکرات کا ماحول پیدا کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔



آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر کسی بھی قسم کی محاذ آرائی عالمی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ہوش مندی کا مظاہرہ کریں اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں تاکہ دنیا کو ایک بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔

0/Post a Comment/Comments