یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، ہزاروں افراد متاثر، اموات میں اضافہ
یورپ کے مختلف ممالک اس وقت غیر معمولی گرمی کی شدید لہر کا سامنا کر رہے ہیں جس نے روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جون کے آخری ہفتے سے اب تک شدید گرمی کے باعث 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
حالیہ دنوں میں کئی یورپی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا، جس کے نتیجے میں طبی مراکز، ہنگامی امدادی اداروں اور ریسکیو سروسز پر کام کا دباؤ بڑھ گیا۔ ماہرین کے مطابق گرمی سے متعلق شکایات اور ایمرجنسی کالز میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کا کہنا ہے کہ حالیہ موسمی صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ کے متعدد رہائشی اور تعلیمی ڈھانچے شدید درجہ حرارت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔
فرانس کے صحت عامہ کے ادارے کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران معمول سے کہیں زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں بڑی تعداد شدید گرمی کے اثرات سے منسلک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے شہر لیپزگ میں بلند درجہ حرارت نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ گرمی کی شدت کے باعث سڑکوں اور ٹرام لائنوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات کے پیش نظر بعض ٹرام سروسز عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔
ماہرین صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرمی کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کریں اور خصوصاً بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں۔

Post a Comment