ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف شہروں میں آٹے کے نرخ یکدم بڑھ گئے ہیں جس کے باعث فی من آٹا تقریباً 800 روپے تک مہنگا ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد عام شہری خصوصاً دیہاڑی دار طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، سپلائی میں مسائل اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے کے باعث آٹے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کئی علاقوں میں دکانداروں نے نئی قیمتوں کے مطابق آٹے کی فروخت شروع کر دی ہے جبکہ صارفین نے مہنگائی کے اس نئے طوفان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور دیگر ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، اب آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور عام شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

Post a Comment