ایرانی وزیرخارجہ کی اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سے24 گھنٹوں میں دوسری ملاقات

 ایرانی وزیرخارجہ کی اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سے24 گھنٹوں میں دوسری ملاقات


ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ دورۂ پاکستان خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے محض 24 گھنٹوں کے اندر اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت سے دو مرتبہ ملاقات کر کے اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے اور قریبی رابطہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

عباس عراقچی اتوار کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط سے اسلام آباد پہنچے۔ اس سے قبل وہ جمعے کی شب بھی پاکستان کا دورہ کر چکے تھے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد وہ مختصر طور پر مسقط روانہ ہوئے، تاہم بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے، جس سے اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے مختصر مگر مصروف دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، اور ممکنہ جنگ بندی جیسے اہم موضوعات زیر غور آئے۔ خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں ان مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت سفارتی سطح پر سرگرم ہو کر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اسی سلسلے میں پاکستان جیسے اہم ملک سے مشاورت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پاکستان نہ صرف خطے میں ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں بھی اس کا کردار نمایاں ہے، جس کی وجہ سے ایران اس کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنا چاہتا ہے۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ عباس عراقچی نے اپنے دورے کے دوران نہ صرف موجودہ صورتحال پر بات چیت کی بلکہ مستقبل کے ممکنہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا بھی تھا تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے۔

دوسری جانب اپنے دورۂ پاکستان کے اختتام پر عباس عراقچی ماسکو روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں جاری جنگی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات، اور مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والی سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ عباس عراقچی روسی قیادت کو حالیہ مذاکرات اور پیش رفت سے بھی آگاہ کریں گے۔

ماہرین کے مطابق عباس عراقچی کے یکے بعد دیگرے دورے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران موجودہ بحران کو صرف فوجی نہیں بلکہ سفارتی انداز میں حل کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور روس جیسے ممالک کے ساتھ مشاورت اس حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے کشیدگی کو کم کر کے خطے میں استحکام لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ محض رسمی نہیں بلکہ انتہائی اہم سفارتی مشن کا حصہ ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو نہ صرف خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام جائے گا کہ پیچیدہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔


0/Post a Comment/Comments