عمران خان کی رہائی سے متعلق تازہ صورتحال

 


خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ Sohail Afridi حالیہ دنوں میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے خبروں میں نمایاں ہیں۔ انہوں نے متعدد بار عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ “قومی مفاد” کا مسئلہ بن چکا ہے۔

سہیل آفریدی نے “عمران خان رہائی فورس” کے نام سے ایک تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے لیے عوامی دباؤ بڑھانا ہے۔

انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا بھی دیا تھا جب انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

پی ٹی آئی قیادت کے مطابق سہیل آفریدی عمران خان کے “وفادار ساتھی” سمجھے جاتے ہیں اور پارٹی قیادت نے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

عمران خان کی رہائی سے متعلق تازہ صورتحال

پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم Imran Khan کی رہائی کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور پارٹی عہدیداروں کی جانب سے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک ان کی رہائی کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ملک بھر میں احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کا اعلان کیا ہے، جن کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی اور آئین کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔

دوسری جانب عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے معاملے پر بھی تنازع برقرار ہے۔ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی خبریں سامنے آئیں، جس پر پارٹی نے شدید ردِعمل دیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی عمران خان کی رہائی کو “قومی مفاد” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی آزادی کے لیے تمام آئینی اور جمہوری کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

ادھر عمران خان کی صحت سے متعلق بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں ان کی بینائی متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کے مطابق انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے اور اسپتال منتقل کرنے پر غور کیا جا چکا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی رہائی کا معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی صورتحال سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مختلف کیسز عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، اسی وجہ سے فوری رہائی کے امکانات کے بارے میں کوئی واضح پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔ 

0/Post a Comment/Comments