جوتے پالش کرنے والا لڑکا کیسے ایک سافٹ وئیر کمپنی کا مالک بن گیا


 اسلام آباد کی ایک مصروف سڑک کے کنارے روز ایک دبلا پتلا لڑکا بیٹھا دکھائی دیتا تھا۔ نام تھا سلیم۔ سامنے چھوٹا سا لکڑی کا ڈبہ، چند برش اور جوتوں کی پالش کی پرانی ڈبیاں۔ صبح سے شام تک لوگوں کے جوتے صاف کرتا اور بمشکل اتنے پیسے جمع ہوتے کہ گھر کا خرچ چل سکے۔ والد برسوں پہلے دنیا چھوڑ چکے تھے، گھر میں صرف ماں اور ایک چھوٹی بہن تھی۔


دن بھر لوگوں کی آوازیں سنائی دیتیں:

“جلدی کرو بھائی… دیر ہو رہی ہے۔”

مگر کسی نے یہ نہ پوچھا کہ اس بچے کے اپنے خواب کیا ہیں۔


رات ڈھلتی تو سلیم قریب کے پارک میں جا بیٹھتا۔ ہاتھوں میں پرانی کتابیں ہوتیں جو ایک مہربان استاد نے اسے دی تھیں۔ استاد ہمیشہ کہتا:

“غربت انسان کے ہاتھ روک سکتی ہے، سوچ نہیں۔”


لوگ ہنستے تھے:

“یہ لڑکا کیا کرے گا پڑھ لکھ کر؟”

لیکن سلیم ہر رات ایک ہی خواب دیکھتا تھا — اپنی بہن عائشہ کو بڑا انسان بنتے دیکھنا۔


وقت گزرتا گیا۔

محنت رنگ لائی۔

سلیم نے بہترین نمبروں سے تعلیم مکمل کی اور اسکالرشپ حاصل کر لی۔ یونیورسٹی میں داخلہ ملا تو جیب میں صرف تھوڑی سی جمع پونجی تھی۔ گھر والوں نے کہا:

“بیٹا، اتنے پیسے خرچ مت کرو۔”

مگر اس نے جواب دیا:

“اگر آج ہار مان لی تو ہماری آنے والی نسل بھی یہی زندگی گزارے گی۔”


تعلیم کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کام جاری رہے۔ کبھی ٹیوشن، کبھی کمپیوٹر سینٹر میں رات کی شفٹ۔ پھر ایک دن اس نے تین پرانے لیپ ٹاپ اور ایک چھوٹے سے کرائے کے دفتر سے اپنا سافٹ ویئر کام شروع کیا۔


ابتدا آسان نہیں تھی۔

کئی بار نقصان ہوا۔

دفتر کا کرایہ دینا مشکل ہو گیا۔

مگر سلیم نے ہار نہیں مانی۔


چند برس بعد اس کی بنائی ہوئی موبائل ایپ پورے ملک میں مشہور ہو گئی۔ آج اس کی کمپنی میں سینکڑوں نوجوان کام کرتے ہیں، اور اس کی بہن ایک کامیاب ڈاکٹر بن چکی ہے۔


سلیم آج بھی جب کسی بچے کو محنت کرتے دیکھتا ہے تو رک جاتا ہے، اس کے ہاتھ میں اپنا کارڈ دیتا ہے اور مسکرا کر کہتا ہے:


“حالات انسان کو چھوٹا نہیں بناتے… خواب چھوڑ دینا انسان کو چھوٹا بنا دیتا ہے۔”

#mnnewstv #viralpost

0/Post a Comment/Comments