ڈالر کی اُڑان، سونے کی گراوٹ — عالمی اور پاکستانی مارکیٹ میں نئی ہلچل
پاکستان سمیت دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ ایک جانب امریکی ڈالر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف سونے کی قیمتوں میں کمی نے سرمایہ کاروں اور عام شہریوں دونوں کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی حالات، شرح سود میں اضافے کی توقعات اور سیاسی کشیدگی اس تبدیلی کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں۔
حالیہ کاروباری ہفتے کے دوران عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 4,527.60 ڈالر فی اونس تک آ گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 4,529.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوتے رہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر بھی سونے کی قیمتوں میں معمولی گراوٹ دیکھی گئی جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی مضبوطی سونے کی قیمتوں میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونا دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے مہنگا ہو جاتا ہے، جس کے باعث اس کی طلب کم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دباؤ کا شکار ہے۔
دوسری جانب امریکہ میں شرح سود بڑھنے کے امکانات بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فیڈرل ریزرو کی جانب سے سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ بلند شرح سود سرمایہ کاروں کو سونے کے بجائے دیگر منافع بخش شعبوں کی طرف راغب کرتی ہے، جس سے سونے کی طلب مزید کم ہو جاتی ہے۔
عالمی سیاسی صورتحال بھی مارکیٹ کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکی سیاستدان مارکو روبیو کی جانب سے ایران سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا اشارہ دیا گیا ہے، تاہم یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات اب بھی کشیدگی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ادھر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے مرکزی بینکوں پر شرح سود بڑھانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسی دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وورش کو فیڈ چیئرمین بنانے کے اعلان نے بھی عالمی مالیاتی منڈیوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو مستقبل کی معاشی پالیسیوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
پاکستانی مارکیٹ میں بھی ان عالمی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث درآمدی اشیاء مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ پیٹرول، ادویات، الیکٹرانکس اور دیگر درآمدی مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سونے کی قیمت میں کمی نے جیولری مارکیٹ میں خریداروں کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔ خاص طور پر شادی بیاہ کے سیزن میں سستا سونا شہریوں کے لیے کسی حد تک ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث لوگ اب بھی محتاط انداز میں خریداری کر رہے ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ چاندی کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتیں بھی نیچے آئیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی معاشی دباؤ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ مزید اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج روپے کی قدر کو مستحکم رکھنا اور مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ اگر حکومت برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی لانے میں کامیاب نہ ہوئی تو ڈالر مزید مہنگا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگی پر پڑیں گے۔
مختصراً، عالمی سطح پر مضبوط ہوتا ڈالر اور کمزور ہوتا سونا نہ صرف بین الاقوامی مارکیٹ بلکہ پاکستان کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی حالات، شرح سود کے فیصلے اور تیل کی قیمتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ مالیاتی منڈیوں کا رخ کس طرف جاتا ہے۔

Post a Comment