امریکی صدر کا ایران کے حوالے سے سخت موقف اور پاکستان کے کردار کا اعتراف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خصوصی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف بھی بالکل ویسا ہی سخت قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا تھا جیسا اس نے وینزویلا کے معاملے میں کیا، تاہم پاکستان کی خصوصی گزارش پر تہران کے خلاف یہ کارروائی روک دی گئی۔
پاکستانی قیادت کو سراہتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف شاندار شخصیات ہیں۔ جانی نقصان کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عراق اور افغانستان جیسی جنگوں میں امریکا کو ہزاروں جانوں کی قربانی دینا پڑی، جبکہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازعے میں صرف 13 امریکی ہلاک ہوئے۔
مذاکرات اور معاہدے کی موجودہ صورتحال
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایران اب کسی نہ کسی سمجھوتے کا خواہاں ہے، لیکن فی الحال دونوں ممالک کے درمیان کوئی حتمی ڈیل طے نہیں پا سکی ہے اور امریکا موجودہ مجوزہ شرائط سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہے۔ ان کے مطابق، مذاکرات کی میز پر ایران اس وقت انتہائی کمزور پوزیشن میں ہے۔ ایرانی قیادت کا گمان تھا کہ وہ معاملے کو طول دے کر امریکا کو تھکا دیں گے، لیکن اب ان کے پاس صرف دو ہی راستے بچے ہیں: یا تو وہ شرائط کے مطابق ڈیل کریں، بصورت دیگر امریکا اپنا نامکمل کام پورا کرے گا۔
انہوں نے مزید دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اگر ایران نے اپنا افزودہ یورینیم چین یا روس کے حوالے کرنے کی کوشش کی تو امریکا اس عمل کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
آبنائے ہرمز کے تنازع پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا موقف تھا کہ یہ انتہائی اہم آبی گزرگاہ پوری دنیا کے لیے کھلی رہے گی اور کسی ایک ملک کو اس پر اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بھی باقی دنیا کی طرح ایک ذمے دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مناسب وقت آنے پر اس گزرگاہ میں بحری جہازوں اور کشتیوں کی نقل و حرکت مکمل بحال کر دی جائے گی، اور اگر ایران کے ساتھ کوئی بنیادی خاکہ (فریم ورک معاہدہ) طے پا جاتا ہے، تو آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

Post a Comment