پاکستان کی قومی توانائی کی حفاظت (انرجی سیکیورٹی) کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب اور کویت نے گوادر پورٹ پر 17 ملین (ایک کروڑ 70 لاکھ) بیرل کا ایک بہت بڑا اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ قائم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔
1 ارب ڈالر (تقریباً 280 ارب روپے سے زائد) کی لاگت کا یہ گیم چینجر منصوبہ پاکستان کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتھل پتھل اور بحری سپلائی چین کی ممکنہ رکاوٹوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھے گا۔اس تزویراتی منصوبے کے تحت گوادر پورٹ کو ایک محفوظ ترین انرجی حب (توانائی کے مرکز) میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اس پلان کے مطابق سعودی عرب 10 ملین بیرل جبکہ کویت باقی ماندہ 7 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کے لیے جدید ترین انفراسٹرکچر تیار کرے گا۔ یہ بڑی پیش رفت پاکستان کے لیے ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آئی ہے جب ملک کے پاس صرف 20 سے 30 دنوں کا عارضی پیٹرولیم ذخیرہ موجود ہے، جو کہ 90 دن کے بین الاقوامی حفاظتی معیار سے بہت کم ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ہنگامی بحرانوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مستقبل میں گوادر کو ایک مکمل "انرجی سٹی" بنانے کی بنیاد بھی بنے گا۔ خلیجی ممالک کے تیل کے ذخائر کو گوادر منتقل کرنے سے پاکستان کی پیٹرولیم انڈسٹری کو نئی زندگی ملے گی اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی و اسٹریٹجک تعلقات ہمیشہ کے لیے ایک نئے اور مضبوط ترین دور میں داخل ہو جائیںگے گ

Post a Comment