پاکستان کی ممتاز خاتون ہوا باز ڈاکٹر شہناز لغاری کو ملک کی پہلی باقاعدہ باپردہ خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جنہوں نے مکمل حجاب اور نقاب کے ساتھ طیارہ اڑا کر یہ ثابت کیا کہ مذہبی لباس پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا اور بعض مقامی ویب سائٹس پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ ڈاکٹر شہناز لغاری کا نام دنیا کی پہلی باپردہ خاتون پائلٹ کے طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق گنیز ورلڈ ریکارڈز کی سرکاری فہرست میں اس دعوے کی کوئی تصدیق یا باقاعدہ اندراج موجود نہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر شہناز لغاری پاکستان کی پہلی باپردہ خاتون پائلٹ ضرور ہیں، لیکن پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون پائلٹ نہیں۔ پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز شکریہ خانم کو حاصل ہے، جنہوں نے 1959ء میں پائلٹ کا لائسنس حاصل کرکے ملکی ہوا بازی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قائم کیا۔
اس لیے ڈاکٹر شہناز لغاری کی کامیابی کو ان کی حقیقی اور مستند حیثیت میں سراہنا چاہیے، جبکہ گنیز ورلڈ ریکارڈ سے متعلق دعوے کو مصدقہ ثبوت کے بغیر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Post a Comment