نابینا بچی کی فریاد بھی نہ سنی گئی؟ دو ماہ سے انصاف کے لیے دربدر سلمیٰ کی دردناک کہانی


*حاصل پور کی نابینا بچی سلمیٰ انصاف کے لیے دو ماہ سے دربدر ہے، مگر افسوس کہ آج تک مقدمہ درج نہ ہو سکا تھانہ سٹی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان*


*متاثرہ نابینہ لڑکی سلمی کے مطابق دو ماہ قبل اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی گئی شور مچانے پر اہلِ محلہ نے موقع پر پہنچ کر واقعہ ناکام بنایا درخواست تھانہ سٹی حاصل پور میں دی گئی لیکن دو ماہ گزر جانے کے بعد تاحال ایف آئی آر درج نہ ہونے پر متاثرہ خاندان شدید پریشان ہے سوال یہ ہے کہ آخر تھانہ سٹی حاصل پور کی جانب سے دو ماہ گزرنے کے باوجود کارروائی کیوں نہ ہو سکی کیا ایک نابینا لڑکی کی فریاد بھی فوری تھانہ سٹی پولیس کے ضمیر کو نہ جھنجھوڑسک عوامی حلقوں میں متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ملزم کے بااثر ہونے یا سیاسی روابط کی وجہ سے کارروائی میں تاخیر ہو رہی ہے اگر ایسا نہیں تو پھر انصاف میں یہ تاخیر کیوں آر پی او بہاولپور ڈی پی او بہاولپور اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ فوری نوٹس لے ملزم عبدالرزاق کے خلاف مقدمہ درج کر کے ملزم کو فل الفور گرفتار کر کے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کیا جائےایک نابینا بچی آج بھی انصاف کی منتظر ہے جواب متعلقہ حکام کو دینا ہوگا*
 

0/Post a Comment/Comments