اس جاسوسی نیٹ ورک کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
طریقہ واردات: گرفتار جاسوس افغان سمز کا استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے حساس مقامات کی لائیو لوکیشن اور تصاویر حقیقی وقت میں بھیج رہے تھے۔
خطرناک روابط: تفتیش کے دوران ان جاسوسوں کے براہِ راست روابط افغانستان میں موجود افغان انٹیلی جنس کے اہلکاروں، تحریکِ طالبان پاکستان کے کمانڈرز، اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی 'را' کے ایجنٹوں سے پائے گئے ہیں۔
* ہائی لیول انویسٹی گیشن: سیکیورٹی حکام کی جانب سے اس نیٹ ورک کے دیگر ملوث عناصر اور سہولت کاروں کو پکڑنے کے لیے تحقیقات انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہیں۔*

Post a Comment