کرپٹو سرمایہ کاری سے آغاز
پولیس کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین کی مرکزی ملزم سے سنگاپور میں ملاقات ہوئی، جہاں کرپٹو کرنسی میں مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق ہوا۔ بعد ازاں ملزمان پاکستان واپس آگئے، جبکہ خواتین بھی مزید کاروباری معاملات طے کرنے کے لیے پاکستان پہنچیں۔
تنازع کیسے بڑھا؟
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق ملزمان کا مؤقف ہے کہ انہیں سرمایہ کاری کا منافع نہیں ملا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ خواتین نے مبینہ طور پر ملزمان سے رابطہ بھی محدود کر دیا تھا۔
اغوا اور تاوان کا الزام
پولیس کے مطابق خواتین کی واپسی سے قبل ایک ملزم نے مبینہ طور پر رقم واپس لیے بغیر انہیں پاکستان سے نہ جانے دینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کیا اور ان کے اہل خانہ سے 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
مبینہ زیادتی کے الزامات
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خواتین نے ابتدائی بیان میں مبینہ جنسی زیادتی اور زیادتی کی کوشش کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ اس حوالے سے میڈیکل معائنہ کرایا جا چکا ہے جبکہ حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔
پولیس نے کیسے سراغ لگایا؟
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ایک متاثرہ خاتون کے والد نے اسپین سے پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا، جس کے بعد فوری کارروائی شروع کی گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، گاڑی کی نمبر پلیٹ اور جدید ٹریسنگ سسٹم کی مدد سے پولیس ملزمان تک پہنچی اور ڈیفنس لاہور میں چھاپہ مار کر دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔
ملزمان گرفتار، تفتیش جاری
پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ تفتیش جاری ہے جبکہ متعلقہ سفارت خانوں سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ دونوں غیر ملکی خواتین کو جلد ان کے وطن واپس بھیجا جا سکے۔
نوٹ: یہ خبر پولیس کے ابتدائی مؤقف اور جاری تحقیقات پر مبنی ہے۔ مقدمے کی تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک تمام الزامات کو مبینہ تصور کیا جائے گا۔

Post a Comment